مرکزی مواد پر جائیں
وزڈم کویسٹ
English

Humor

ماموں میاں اور بیگم

بیگم نے ایک نیا شوق اپنانے کا فیصلہ کیا تو ماموں میاں کو بھی اس میں اپنی رائے دینے کا موقع مل گیا۔ پھر کیا تھا، گھر میں مشوروں اور دلچسپ بحثوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔...

3 منٹ کا مطالعہ

ماموں میاں اور بیگم

ماموں میاں کی بیگم کو نئے نئے شوق پالنے کی عادت ہے۔ کبھی سلائی کا شوق، کبھی باغبانی کا، کبھی کتابیں پڑھنے کا اور کبھی گھر کی ترتیب بدلنے کا۔ البتہ ماموں میاں کو ان تمام شوقوں سے ایک ہی شکایت ہے کہ ان کے آرام میں خلل پڑتا ہے۔

ایک روز بیگم صاحبہ نے اعلان کیا کہ اب وہ گھر میں ورزش کیا کریں گی۔

ماموں میاں نے اخبار سے نظریں اٹھائیں۔

’’یہ نیا کیا شوق پال لیا؟‘‘

بیگم نے فرمایا، ’’ڈاکٹر کہتے ہیں کہ صحت کے لیے ورزش ضروری ہے۔‘‘

ماموں میاں بولے، ’’ڈاکٹر تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وقت پر سویا کرو۔ کیا کبھی ان کی یہ بات مانی ہے؟‘‘

بیگم نے مسکرا کر کہا، ’’آپ اپنی فکر کریں، ہم اپنی صحت کی فکر کر رہے ہیں۔‘‘

اگلی صبح بیگم نے کمرے میں ورزش شروع کر دی۔ کبھی ہاتھ اوپر، کبھی نیچے، کبھی دائیں، کبھی بائیں۔

ماموں میاں کچھ دیر انہیں دیکھتے رہے، پھر بولے:

’’یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘

’’ورزش۔‘‘

’’اس سے کیا ہوگا؟‘‘

’’صحت اچھی ہوگی۔‘‘

ماموں میاں نے سر ہلایا اور فرمایا، ’’ہماری ایک بات مانو، روزانہ صبح میرے ساتھ چہل قدمی کیا کرو۔‘‘

بیگم نے پوچھا، ’’آپ خود کب چہل قدمی کرتے ہیں؟‘‘

بولے، ’’ہم تو ذہنی طور پر روزانہ کرتے ہیں۔‘‘

بیگم نے کہا، ’’ذہنی ورزش سے جسم کی چربی کم نہیں ہوتی۔‘‘

ماموں میاں نے فوراً جواب دیا، ’’لیکن دماغ کی چربی ضرور کم ہوتی ہے۔‘‘

چند دن بعد بیگم نے کھانے میں احتیاط شروع کر دی۔ ماموں میاں کے لیے بھی سبزی اور سلاد آنے لگا۔

ایک روز انہوں نے پلیٹ دیکھی تو فرمایا:

’’یہ کیا ہے؟‘‘

بیگم بولیں، ’’سلاد۔‘‘

’’اور سالن؟‘‘

’’آج نہیں بنایا۔‘‘

ماموں میاں نے افسوس سے کہا، ’’گھر میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے۔‘‘

بیگم نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘

بولے، ’’ہماری مرضی کے خلاف کھانا بنایا جا رہا ہے۔‘‘

بیگم نے کہا، ’’آپ کی مرضی کے مطابق تو روزانہ کباب، نہاری اور پراٹھے بنیں گے۔‘‘

ماموں میاں نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:

’’تو کیا بری بات ہے؟ آخر گھر میں کسی ایک کی صحت تو اچھی رہنی چاہیے۔‘‘

بیگم نے سلاد ان کے سامنے رکھ دیا۔

ماموں میاں نے ایک پتا اٹھایا، منہ میں رکھا اور بولے:

’’تمہاری یہ ورزش اور خوراک دیکھ کر ہمیں ایک بات سمجھ آ گئی ہے۔‘‘

بیگم نے پوچھا، ’’کیا؟‘‘

’’انسان کو صحت مند رہنے کے لیے شادی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

بیگم نے مسکرا کر جواب دیا:

’’اور بیوی کو صحت مند رہنے کے لیے شوہر کی بات نہیں سننی چاہیے۔‘‘

ماموں میاں نے فوراً اخبار اٹھا لیا۔ بعض اوقات خاموشی بھی بڑی دانش مندی ہوتی ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں