Humor
ماموں میاں کون ہیں؟
’ماموں میاں‘ ایک مزاحیہ کردار ہے۔ ’ماموں میاں سیریز‘ ان کے مزاحیہ رویوں اور ہنسانے والے انداز پر مبنی ہے۔ وہ کبھی احمقانہ حرکتیں کرتے ہیں تو کبھی خود کو بہت بڑا عقلمند سمجھتے ہیں۔ یقیناً، آپ کو یہ کردار بہت پسند آئے گا۔
7 منٹ کا مطالعہ
ماموں میاں کون ہیں؟ ماموں میاں سیریز— تعارفی قسط نمبر 1
دنیا میں کئی طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، کچھ اپنی غلطیوں سے اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو غلطی کرنے کے بعد دوسروں کو سمجھانے لگتے ہیں کہ اصل میں غلطی ہوئی ہی نہیں۔ ہمارے ماموں میاں کا شمار آخری قسم میں ہوتا ہے۔
ماموں میاں ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے عقل سے زیادہ صبر کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل ان کے پاس موجود نہ ہو۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات ان کے حل سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ان کی عمر کا صحیح اندازہ لگانا آسان نہیں۔ خود فرماتے ہیں کہ ابھی تو جوانی کے دن ہیں، البتہ ان کے گھٹنوں کی رائے اس معاملے میں کچھ مختلف ہے۔ بالوں میں سفیدی آ چکی ہے، مگر خیالات ابھی تک ایسے ہیں جیسے کل ہی کالج سے فارغ ہوئے ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب کالج جانے کے بجائے کالج کے زمانے کے قصے سناتے ہیں۔
ماموں میاں کا لباس ہمیشہ صاف ستھرا ہوتا ہے۔ کپڑوں پر استری ہو یا نہ ہو، انہیں اس کی کوئی خاص پروا نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں شخصیت کپڑوں سے نہیں، خیالات سے بنتی ہے۔ سر پر کبھی ٹوپی، کبھی رومال اور کبھی کچھ بھی نہیں ہوتا۔ البتہ گھر سے نکلتے وقت جیبیں ضرور ٹٹولتے ہیں۔ ایک جیب میں پرانا رومال، دوسری میں کچھ رسیدیں، تیسری میں کوئی ایسی چیز جس کی انہیں خود بھی خبر نہیں ہوتی۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر موضوع پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ سیاست ہو، معیشت ہو، تعلیم ہو، صحت ہو یا سائنس، کوئی میدان ایسا نہیں جہاں ماموں میاں نے اپنی رائے نہ دی ہو۔ کبھی کبھی تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے آدمی کو ابھی تک کسی یونیورسٹی نے اعزازی پروفیسر کیوں نہیں بنایا۔ ایک روز ہم نے پوچھا، ’’ماموں میاں! آپ نے اتنے علوم کہاں سے حاصل کیے؟‘‘ فرمانے لگے، ’’بیٹا! علم کتابوں میں نہیں، تجربے میں ہوتا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا، ’’لیکن آپ نے کتابیں بھی تو پڑھی ہوں گی؟‘‘ بولے، ’’کتابیں پڑھنے سے آدمی دوسروں کے خیالات جانتا ہے، ہم تو اپنے خیالات رکھتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اخبار اٹھایا اور سرخی پڑھنے لگے۔ اخبار الٹا تھا، لیکن ماموں میاں نے اسے سیدھا کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ہم نے توجہ دلائی تو فرمانے لگے، ’’ہمیں الٹا سیدھا پڑھنے کی عادت ہے، اس سے دماغ کی ورزش ہوتی ہے۔‘‘ ماموں میاں کی یادداشت بھی عجیب ہے۔ انہیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ بیس سال پہلے کسی نے انہیں چائے میں چینی کم دی تھی، لیکن یہ یاد نہیں رہتا کہ ابھی ابھی عینک کہاں رکھی ہے۔ اپنے وعدے انہیں کبھی یاد نہیں رہتے، البتہ دوسروں کے وعدے وہ برسوں بعد بھی یاد دلا دیتے ہیں۔
ان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اپنی غلطی کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ اگر راستہ بھول جائیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے راستہ تبدیل کیا ہے۔ اگر کسی کا نام بھول جائیں تو فرماتے ہیں کہ ناموں کے بجائے رشتے یاد رکھنے چاہییں۔ اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے تو کہتے ہیں کہ بات میں کوئی خاص وزن نہیں تھا۔
ان کے نزدیک ہر ناکامی دراصل کامیابی کی ایک نئی شکل ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ بازار سے غلط جوتے خرید لائے۔ ہم نے کہا، ’’ماموں میاں! یہ تو آپ کے پاؤں کے ناپ کے نہیں ہیں۔‘‘ فرمانے لگے، ’’تمہیں کیا معلوم، آج کل کھلے جوتوں کا فیشن ہے۔‘‘ ہم نے کہا، ’’لیکن یہ تو بہت تنگ ہیں۔‘‘ بولے، ’’اسی لیے تو پاؤں قابو میں رہتے ہیں۔‘‘ ماموں میاں کو دوسروں کو نصیحت کرنے کا بھی بہت شوق ہے۔ صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک کوئی نہ کوئی نصیحت ان کے ذہن میں تیار رہتی ہے۔ اگر کوئی دیر سے اٹھے تو وقت کی پابندی پر لیکچر، اگر جلدی اٹھے تو نیند پوری کرنے کی اہمیت پر تقریر۔ اگر کوئی پیسے خرچ کرے تو فضول خرچی کی مذمت، اور اگر پیسے بچائے تو زندگی سے لطف نہ اٹھانے کا شکوہ۔ ان کی بیگم بھی ان کی ان خوبیوں سے خوب واقف ہیں۔ اکثر کہتی ہیں کہ گھر میں دو ہی آدمی سمجھدار ہیں، ایک میں اور دوسرے وہ جو میری بات مان لیتے ہیں۔ ماموں میاں اس بات پر کبھی اعتراض نہیں کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں گھر کا امن قائم رکھنا بھی ایک فن ہے۔
محلے میں ان کی خاص عزت ہے۔ کچھ لوگ ان سے مشورہ لیتے ہیں، کچھ ان سے بچ کر گزرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کی باتیں صرف اس لیے سنتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ ماموں میاں کو درمیان میں روکنا ممکن نہیں۔ ان کی گفتگو کا ایک خاص انداز ہے۔ پہلے ایک لمبی تمہید باندھتے ہیں، پھر اصل بات کی طرف آتے ہیں اور آخر میں وہی بات دوبارہ سمجھاتے ہیں جسے سننے والا پہلے ہی سمجھ چکا ہوتا ہے۔ اکثر فرماتے ہیں: ’’ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا، بس تصدیق کر رہے تھے!‘‘ یہ جملہ انہوں نے زندگی میں اتنی مرتبہ استعمال کیا ہے کہ اب ہمیں شک ہونے لگا ہے کہ شاید ان کی پیدائش بھی تصدیق کے لیے ہی ہوئی تھی۔
بہرحال، ماموں میاں کوئی عام آدمی نہیں۔ ان میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی، عقل بھی ہے اور کبھی کبھی عقل سے چھٹی بھی۔ وہ خود کو دنیا کا سب سے سمجھدار انسان سمجھتے ہیں، جبکہ دنیا ابھی تک اس معاملے میں کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچی۔ ہماری زندگی میں ان کی موجودگی ایک ایسی نعمت ہے جس سے کبھی کبھی آزمائش کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ماموں میاں نہ ہوتے تو ہماری روزمرہ زندگی میں ہنسنے کے کئی مواقع کم ہو جاتے۔
آئندہ آپ کو ان کے مزید کارناموں سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ کبھی وہ کسی نئے پڑوسی کو عقل سکھائیں گے، کبھی موبائل فون سے الجھیں گے، کبھی کاروبار کرنے نکلیں گے اور کبھی اپنی ہی بھولی ہوئی بات کو دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ قرار دیں گے۔
فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔ آخر ماموں میاں کا تعارف ہے، ان کی مکمل داستان نہیں۔ وہ تو ابھی شروع ہوئی ہے!