مرکزی مواد پر جائیں
وزڈم کویسٹ
English

Humor

ماموں میاں اور نیند

ماموں میاں کے نزدیک نیند انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ وہ اس بات پر سخت ناراض ہوتے ہیں کہ آج کل لوگ آرام کرنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں- ایک صبح ہم ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ بستر پر لیٹے چھت کو گھور رہے تھے..............

2 منٹ کا مطالعہ

ماموں میاں اور نیند

ماموں میاں کے نزدیک نیند انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ وہ اس بات پر سخت ناراض ہوتے ہیں کہ آج کل لوگ آرام کرنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے بڑے دانشوروں نے آرام کے دوران ہی بڑے بڑے خیالات سوچے ہیں۔

ایک صبح ہم ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ بستر پر لیٹے چھت کو گھور رہے تھے۔

ہم نے پوچھا، ’’ماموں میاں! طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘

بولے، ’’بالکل ٹھیک ہے، بس نیند نہیں آ رہی۔‘‘

ہم نے کہا، ’’رات کو سوئے نہیں؟‘‘

فرمانے لگے، ’’سوئے تو تھے، مگر نیند نہیں آئی۔‘‘

ہم نے پوچھا، ’’کتنی دیر سوئے؟‘‘

بولے، ’’یہی کوئی سات آٹھ گھنٹے۔‘‘

ہم نے کہا، ’’پھر تو نیند پوری ہو گئی۔‘‘

فرمانے لگے، ’’تمہیں نیند اور سونے میں فرق معلوم نہیں۔‘‘

ہم نے عرض کیا، ’’وہ کیسے؟‘‘

بولے، ’’سونا آنکھیں بند کرنے کا نام ہے، نیند ایک روحانی کیفیت ہے۔‘‘

ہم اس فلسفے پر غور ہی کر رہے تھے کہ ماموں میاں نے جمائی لی اور آنکھیں بند کر لیں۔

کچھ دیر بعد ہم دوبارہ کمرے میں گئے تو وہ خراٹے لے رہے تھے۔

ہم نے آہستہ سے آواز دی، ’’ماموں میاں!‘‘

انہوں نے آنکھ کھولی اور ناراض ہو کر بولے، ’’کیا ہے؟‘‘

ہم نے کہا، ’’آپ تو کہہ رہے تھے نیند نہیں آ رہی۔‘‘

فرمانے لگے، ’’آ رہی تھی، تم نے جگا دیا۔‘‘

دوپہر کو انہوں نے اعلان کیا کہ رات کو جلدی سوئیں گے۔ اس مقصد کے لیے موبائل بند کر دیا، کمرے کی بتی بجھا دی اور بستر پر لیٹ گئے۔

آدھے گھنٹے بعد آواز آئی:

’’بیٹا! ذرا دیکھنا، کتنے بجے ہیں؟‘‘

ہم نے بتایا، ’’بارہ بجے ہیں۔‘‘

بولے، ’’ابھی تو بہت وقت ہے۔‘‘

پھر کچھ دیر بعد پوچھا، ’’اب کتنے بجے ہیں؟‘‘

ہم نے کہا، ’’بارہ بج کر پانچ منٹ۔‘‘

فرمانے لگے، ’’گھڑی بھی آج کل بہت سست چل رہی ہے۔‘‘

رات کے دو بجے تک یہی سلسلہ جاری رہا۔

صبح ہم نے پوچھا، ’’ماموں میاں! رات کو نیند آئی؟‘‘

بولے، ’’نہیں، ساری رات جاگتے رہے۔‘‘

ہم نے کہا، ’’لیکن آپ تو خراٹے لے رہے تھے۔‘‘

فرمانے لگے، ’’وہ تو میں وقت گزارنے کے لیے لے رہا تھا۔‘‘

ہم نے سوچا کہ ماموں میاں کی نیند بھی ان کی عقل کی طرح ہے۔ جب آتی ہے تو کسی کو خبر نہیں ہوتی اور جب نہیں آتی تو پورے گھر کو معلوم ہو جاتا ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں